103. Aqidah us Salaf wa Ashabul hadith
103. عقیدة السلف و أصحاب الحدیث
• اہل سنت کی علامات۔ (حصہ دوم)
اہل سنت آئمہ اہل سنت سے محبت کرتے ہیں اور اہل بدعت سے بغض و نفرت کرتے ہیں۔
[put_wpgm id=2]اہل سنت آئمہ اہل سنت سے محبت کرتے ہیں اور اہل بدعت سے بغض و نفرت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اہل سنت کو کتاب، وحی اور (اپنے اور اپنے رسول کے) خطاب کی اور اللہ تعالیٰ کے قریبی اولیاء کی اتباع کی توفیق دی۔
اور رسول ﷺ کی احادیث کی پیروی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے (اہل سنت) کے سینوں کو اپنی محبت کے لیے اور آئمہ شریعت اور علماء امت کی محبت کے لیے کشادہ کر دیا۔
بعض اہل بدعت اصحاب الحدیث کو حشویہ کہتے ہیں اور بعض مشبہہ اور بعض نابتہ اور بعض ناصبہ کا نام دیتے ہیں۔
اہل بدعت نے اہل الحدیث کو برے القابات سے جو پکارا ہے یہ وہی طریقہ ہے جو مشرکین نے رسول ﷺ کے مقابلے میں اپنایا تھا۔ (حصہ دوم)
Har woh shakhs jis ne Allah Taala ke pyare Paighambar ﷺ se mulaqat ki hai iman ki halat mein aur isi par wafat hui hai chahe ek din ya ek mahina ya ek saal ya is se kam ya is se zyada jis shakhs ki bhi mulaqat hui hai kuch lamhat hi kyun na ho, un ke liye hum rehmat ki dua karte hain Allah Taala se. Un ki fazilat bayan karte hain un ki ghaltiyon par khamoshi ikhtiyar karte hain.
Aur jab bhi un ka zikr karte hain to khair se zikr karte hain khair ke siwa kisi aur cheez se zikr nahi karte.
Kyunke Allah Taala ke pyare Paighambar ﷺ ne farmaya hai: Jab mere Sahaba karam ka zikr kiya jaye to phir khamoshi ikhtiyar karo.
Imam Sufyan bin Uyaynah rahimahullah farmate hain: Jis ne bhi Allah Taala ke pyare Paighambar ﷺ ke Sahaba ke khilaf ek lafz bhi bola to aisa shakhs ahwa parast (bidati) hai.
۔اہل بدعت اہل سنت کو برے ناموں سے صرف عصبیت کی وجہ سے پکارتے ہیں۔
اہل سنت کا دوسرا نام اہل حدیث ہے۔
اہل بدعت نے اہل سنت کو برے القابات سے جو پکارا ہے یہ وہی طریقہ ہے جو مشرکین نے رسول ﷺ کے مقابلے میں اپنایا تھا۔
Phir sab se afzal un Ashara Mubashshara bil Jannah ke baad jo digar Sahaba hain Allah Taala ke pyare Paighambar alaihi al salat wa al salam ke jo pehla zamana hai jis zamane mein Allah Taala ke pyare Paighambar ﷺ ko maboos farmaya gaya Muhajireen aur Ansar jo pehle zamane ke hain aur yeh woh Muhajireen aur Ansar hain jinhon ne donon qiblon ki taraf rukh karke namaz parhi.
Donon Qibley Bait al Maqdis aur Kaaba Baitullah. Hissa Dom
اہل بدعت کہتے ہیں کہ احادیث کا شرعیت کے بنیادی علم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
1) قرآن و سنت کی روشنی میں صرف ایک ہی امام کی تقلید کو لازم سمجھنے کی کیا دلیل ہے؟
2) سلف صالحین کا فقہی اختلافات میں کیا منہج تھا؟
3) اگر گھر والے اختلافی فقہی مسائل پر بحث کریں تو میں ادب اور حکمت کے ساتھ کون سا جواب دوں یا سوال کس انداز میں رکھوں؟
میری نیت نہ بحث کی ہے اور نہ فتنہ کی، بلکہ صرف صحیح سمجھ کے ساتھ دین پر عمل کرنا چاہتا ہوں
اخوان المسلمین اور روافض کی حقیقت۔
اہل بدعت اہل سنت کی تحقیر کرتے ہیں۔
اہل سنت کو برے ناموں سے پکارتے ہیں۔
اصحاب الحدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اپنے کانوں کو اہل بدعت کی باتیں سننے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (حصہ دوم)
اصحاب الحدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اپنے کانوں کو اہل بدعت کی باتیں سننے سے محفوظ رکھتے ہیں۔
اصحاب الحدیث اہل بدعت سے بغض و نفرت کرتے ہیں جنہوں نے دین میں ایسی چیز ایجاد کی ہیں جو دین میں سے نہیں ہیں۔
ان سے محبت نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے دوستی لگاتے ہیں۔ اور نہ ہی ان کی باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔
اور ان کے ساتھ دین کے متعلق جدال اور مناظرہ بھی نہیں کرتے۔
“نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آپ جب ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن مجید کی متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں تو یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو ان سے خبردار رہو۔ ”
اصحاب الحدیث نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام اور آئمہ دین جو صالحین ہیں ان کی پیروی کرتے ہیں۔
اصحاب الحدیث نبی کریم ﷺ اور صحابہ کی پیروی کرتے ہیں جو آسمان کے تاروں کی طرح ہیں۔
اصحاب الحدیث اہل بدعت اور اہل جہالت سے دشمنی رکھتے ہیں۔
اور اہل بدعت اور گمراہوں سے دوری اختیار کرتے ہیں۔
شدید لالچ کی عاقبت اور انجام سے ڈرتے ہیں۔
ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرتے ہیں۔
کھانے، پینے، لباس، شادی بیاہ اور خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔
بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں پیش قدمی کرتے ہیں۔
More
سلام کو عام کرتے ہیں۔
(سلام کرنے کی اہمیت شریعت میں، اس کا مقام، اور اس کے ساتھ جڑا ہوا اجر و ثواب)
کھانا کھلاتے ہیں۔
فقراء اور مساکین اور یتیموں پر شفقت کرتے ہیں۔
اور مسلمانوں کے عام امور کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔
نماز کے ارکان کا بیان۔
تہجد کی نماز کی وصیت کرتے ہیں۔
صلہ رحمی کی وصیت کرتے ہیں۔
اصحاب الحدیث امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب سمجھتے ہیں۔
اہل حدیث تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔
• وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا[33]سورت مریم
اور خاص سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں گا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جاؤں گا۔
لوگ اس آیت کو دلیل بنا کر جشن میلاد النبی کو جائز قرار دیتے ہیں۔۔کہ جب عیسی علیہ السلام نے اپنی پیدائش کے دن پر خوشی کا اظہار کیا۔تو نبی کریم ﷺ کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ جب نبی کریم ﷺ تو تمام انبیاء کے سردار ہیں۔
•
– جادو کیا ہوتا ہے؟ جادوگر کون ہوتے ہیں؟ جادو کی ابتداء کیسے ہوئی؟ جادوگر کا حکم کیا ہے؟ جادوگر کی بات ماننے والے کا حکم کیا ہے؟ جادو کی کتنی قسمیں ہیں؟
– قربانی کا حکم کیا ہے اور اس فضیلت کیا ہے۔اور وہ کون کون سی چیزیں ہیں بھیمة الانعام میں سے جن کی قربانی قابل قبول ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اور اس کا وقت کیا ہے؟
– کون سے عیب ہیں اگر قربانی کے جانور میں پائے جائے تو پھر یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں، اس کی جگہ دوسری قربانی دینی پڑے گی
– عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت
• ۔خیر اور شر کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنے کا حکم؟
• ۔بندوں کا انجام مبہم (غیر معروف) ہے۔
660: قاضی (جج) متعین کرنے کا بیان۔
661: بینہ (ثبوت) مدعی پر ہے اور مدعا علیہ پر قسم ہے۔
662:قاضی جو سنتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
663: گواہوں کا بیان۔
664: مدعا علیہ کی قسم کا بیان۔
665: اگر مدعا علیہ قسم کھانے سے انکار کر دے۔
666: بینہ (ثبوت) کا بیان۔
667: گواہ کا حکم؟
668 گواہی کا حکم؟
669: گواہ کا عادل ہونا۔
670: عادل کون ہوتا ہے؟
671: گواہی علم کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
672: کون گواہ نہیں بن سکتا!
673:جھوٹی قسم کھانے والے کی سزا۔
– اگر اللہ تعالی نے انسان کے عمل کو پیدا کیا ہے تو پھر اس پر جزا و سزا کیوں دیتا ہے؟
[پوائنٹ نمبر 654] – مرتد کے حکم کا بیان
• مرتد کون ہوتا ہے؟
• مرتد کسے کہتے ہیں؟
• وہ کون سی چیزیں ہیں جو مسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتی ہیں؟
• یہ موضوع کتنی اہمیت رکھتا ہے ؟
• شرعاً اس کی کیا اہمیت ہے کیا حیثیت ہے ؟
• مرتد کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟ اُس کے اوپر کیا /کون سی حد قائم کی جاتی ہے ؟ اور حد کون قائم کرے گا ؟
[Point 654] – Murtad ke hukum ka bayan
• Murtad kaun hota hai,
• Murtad kisey kehtey hain,
• Woh konsi cheezain hain, jo ek musalman ko dair e islaam se khaarij kar detin hain.
• Ye mauzu kitni ehmiyat rakhta hai.
• Shar’an iski kya ehmiyat hai, Kya haisiyat hai
• murtad ke saath kya sulooq kiya jaata hai. Uskey upar kya/ konsi hadd qayam ki jaati hai, aur hadd kon qayam karega.
• سوال – کیا میری بہن فدیہ رقم کی صورت میں دے سکتی ہیں یا مسکین کو کھانا کھلانا ضروری ہے؟
• سوال – کیا کھانا یا رقم ایک ہی مسکین کو ایک ہی دفعہ دی جاسکتی ہے؟
• سوال – ہمارے گھر پر قرض چڑھا رہتا ہے اور ہم زکوۃ بھی لے لیتے ہیں. والد کی آمدنی کم ہے. تو کیا میری بیمار بہن جو (job) کرکے کماتی ہے، فدیہ کی رقم اپنی ہی چھوٹی بہن کو رقم کی صورت میں دے سکتی ہے اسکےکالج کے اخراجات کے لیے؟
یا اسے گھر کا راشن ڈلوانا چاہیے؟
• سوال – اگر بہن گھر میں فدیہ کی رقم دیتی ہے تو یہ زیادہ ثواب کی بات ہے یا کسی مسکین کو دینا؟
625. قتل اور جسم کے مختلف اعضاء کی دیت۔
626. قصاص واجب ہونے کی شرطیں۔
627. جماعت کو ایک شخص کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔
628. جسم کے اعضاء کا بدلہ لیا جائے گا بغیر زیادتی کے۔
629. عورت کی دیت مرد کے مقابلے میں آدھی ہے۔
2. عورت اگر فائننشلی [Financially] آزاد رہنا چاہتی ہے تو کیا غلط ہے؟ کیوں وہ کسی پر بھی ڈیپینڈنٹ [Dependent] رہے؟
3. کیوں عورت کو ہمیشہ کسی نہ کسی پر ڈیپینڈنٹ رہنا پڑتا ہے؟ شادی سے پہلے والد یا بھائی پر اور شادی کے بعد شوہر پر؟
قران اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
1. Aurat ka ghar kaun sa hai?
[Aurat zindagi bhar yeh kyun kehti hai ke main susral ja rahi hoon ya main mayke ja rahi hoon?]
2. Aurat agar financially azaad rehna chahti hai to kya ghalat hai? Kyun woh kisi par bhi dependent rahe?
3. Kyun aurat ko hamesha kisi na kisi par dependent rehna padta hai? Shaadi se pehle walid ya bhai par aur shaadi ke baad shauhar par?
– اگر گناہگار مومن کو جہنم میں عذاب بھی دیا جائے تو اسے کفار کی طرح جہنم میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
– اور کافروں کی طرح اس میں ہمیشہ بھی نہیں رہے گا۔
– اور عذاب بھی کافروں کی طرح نہیں دیا جائے گا۔
• [بیویوں، رشتے داروں، اور ممالیک کا نان و نفقہ اور حضانة کا بیان۔]
589:بیویوں، رشتے داروں اور ممالیک کے لیے نان و نفقہ اور حضانة کا بیان۔
590: جب بیوی نان و نفقہ کا مطالبہ کرے گی تو شوہر پر دینا واجب ہو گا۔
591: مرد پر ماں، باپ اور داد کا خرچ فرض ہے اور اولاد کا بھی خرچ فرض ہے اگر مالدار ہے۔
592: غلام، لونڈی اور خادم کا خرچ آقا پر فرض ہے۔
593: بالغ بچوں کی شادی کا خرچ باپ پر فرض ہے۔
594: گھر کے پالتوں جانوروں کا کھانا پینا مرد پر فرض ہے۔
Eiman qaul aur amal hai – zyada bhi hota hai aur kam bhi hota hai
Jannat aur dozakh par eiman aur ye ke ye dono makhlooq hain aur kabhi fana nahi hongey
• موحدین میں سے ایک گروہ کا جنت میں بغیر حساب کے داخل ہونا، کبیرہ گناہ کے مرتکب مومنین کو جہنم سے نکالنا۔
• حوض اور کوثر پر ایمان۔
• اس پر بھی ایمان کہ موحدین میں سے ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا بغیر حساب کے۔
• ایک گروہ کا حساب بہت ہی آسانی سے ہوگا۔
• کچھ لوگ جنت میں داخل ہوں گےبغیر کسی تکلیف یا عذاب کے۔
• ایک گروہ جو موحدین میں سے گناہگار ہو گا اسے جہنم سے چھٹکارہ ملے گا اور ان کے بھائیوں سے ان کو ملا دیا جائے گا جو ان سے پہلے جنت جا چکے ہوں گے۔
• اور جو موحدین میں سے گناہگار ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
• اور جو کافر ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کو کبھی اس سے خارج نہیں کیا جائے گا، اور انہیں عذر پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا، اور نہ ہی عذاب انہیں چھوڑ گا، اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے۔
• اور اس پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں اہل ایمان کے گناہگاروں میں سے ہمیشہ کیلئے کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔
• ہمارے یہاں پر عصر کی نماز کا وقت ساڑھے تین بجے سے لے کر ساڑھے پانچ بجے تک کا ہے۔ میں ایک بڑی دکان میں کام کرتا ہوں جہاں پر ساڑھے تین بجے ہم سب کو دکان کا سامان سمیٹنا ہوتا ہے۔ سامان زیادہ ہونے کے وجہ سے دکان کا مالک اس وقت کسی کو باہر جانے یا اور کچھ کام کرنے نہیں دیتا۔ سامان سمیٹتے وقت ہی ہماری گاڑی آجاتی ہے جو ہم سب کو لے کر نکلتی ہے اور گھر پر پہنچتے پہنچتے مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اور ہماری عصر کی نماز رہ جاتی ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں میں عصر کی نماز ظہر کے ساتھ جمع کر سکتا ہوں؟ یا گاڑی میں بیٹھ کر نماز پڑھوں اور اگر نہیں تو اس کا حل کیا ہے؟
•
2۔ کیا میت کو مسجد یا گھر سے قبرستان تک لے کر جانے کے وقت کوئی خاص دعا ہے؟
3۔ کیا میت کو کندھا دینے کی کوئی خاص دعا ہے؟
• Sheikh Saleh Al Fawzan (حفظہ اللہ) farmate hain kisi bhi deen ki baat par amal karne se pehle tahqeeq karne ke liye ye paanch sawaal poochein
1. ye qaul kisne kaha hai?
2: ye soch Kahan se ayi hai?
3: is ki koi daleel hai kitab wa sunnat se?
4: kahne wale ne ilm Kahan se hasil kiya hai?
5: or ilm kis se hasil kiya he?
• jaan lo ki logon ne uss waqt tak koi biddat ijaad nahi ki jab tak ke unho ne uss jaisi kisi sunnat ko na chor diya, iss liye muharamat se bacho, kyunkay deen mein har naya kaam biddat hai aur har biddat gumrahi hai, aur har gumraahi aur gumraah dozakh mein hain
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مذہب اسلام کی ہدایت عطا فرمائی، اور اس دین کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، اور ہمیں خیر امت میں پیدا کیا، ہم اس سے ان کاموں کی توفیق چاہتے ہیں جو اسے محبوب اور پسند ہیں اور ان کاموں سے اسکی حفاظت طلب کرتے ہیں جو اسے ناپسند اور ناراض کرنے والے ہیں۔
اب گورنمنٹ نے اس پر الگ سے ایک سال کی پنالٹی ٦٦٠٠٠ روپیہ کی لگائی ہے ۔ اور اگر رقم نہیں دینگے تو اگلے ماہ الگ سے ١٤٠٠٠٠ کی پنالٹی لگے گی اور ہر سال یہ بڑھتی رہے گی۔
ان کے پاس بھی پیسوں کی تنگی ہے ۔
بینک کے سود بھی ان کے مانگنے سے اتنے جمع نہیں ہورہے ہیں ۔
کیا وہ زکوۃ سے یہ ٹیکس اور پنالٹی ادا کر سکتے ہیں ؟
١- کیا آج ہم اس مصارف کے تحت حج کر سکتے ہیں؟
٢ – اگر کر سکتے ہیں تو اس کا کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
٣ – ہم اپنی زکوۃ کو کتنی مدت تک رکا سکتے ہیں؟
٤ – کیا ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی زکوۃ اس کے لیے جمع کر سکتے ہیں؟
٥ – کیا اس میں صرف عمرہ کر سکتے ہے؟
• درختوں اور پھلوں کی خرید و فروخت کا بیان
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
کیا عبداللہ بن مسعود سے ثابت ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا؟ اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
• اگر حماس طائفہ منصورہ گروہ نہیں ہے تو پھر طائفہ منصورہ گروہ کون ہے؟ اور اس وقت کہاں ہے؟
• گنہگار تو سب ہیں اگر ان سے کوئی گناہ یا کوتاہیاں ہوئی ہیں تو جہاد بھی تو کر رہے ہیں، اللہ تعالٰی کامیاب کیوں نہیں کرے گا؟
• ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ اس وقت حماس کی مدد کرنی چاہیے، اسے حالات میں جذبات پر قابو پانا بہت مشکل ہے، اور ہمارے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے؟
• اگر حماس نے کاروائی کی ہے تو دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے اسکے علاوہ کر ہی کیا سکتے ہیں؟ اسرائیل کو اکسایا ہے یا نہیں اکسایا ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، دشمن تو ہمیشہ نقصان پہنچانے کے لیے تیار رہتا ہے، حماس نے تو اپنا حق ادا کیا ہے، جنگ بدر میں بھی مسلمان کم تعداد میں تھے اللہ تعالٰی نے مدد کی تھی اب کیوں نہیں کریگا؟
• آج مسلمان بہت طاقتور ہیں اگر ایک ساتھ مل جائیں تو یہودیوں کا نام ونشان بھی مٹا دیں گے، ہم سب متحد ہو کر دشمن پر غلبہ حاصل کیوں نہیں کر سکتے؟
• اگر اس وقت اس مسئلے کا حل جہاد اور جنگ نہیں ہے تو پھر اور کیا حل ہے؟ کیا صرف درس گاہوں میں بیٹھ کر لوگوں کو دینی تعلیم دینا کافی ہے؟ لوگوں کو بیوقوف نہ بنائیں اس وقت عقیدہ، بد عقیدہ کھیل چھوڑیں، اس وقت کوئی جہمی قدری موجود نہیں ہے، کون جہمی، قدری، رافضی، اشعری ماتوریدی بدعتی وغیرہ یا بدکار ہے اور کون نہیں ہے یہ سب چھوڑیں ہمیں اس مسئلے کا فوری حل قرآن اور سنت کی روشنی میں بتائیں؟
• ہم اہل حدیث ہیں اور جب ہمیں دین کی بڑی بڑی چیزیں معلوم ہیں تو آپ ہمیں مزید علم سیکھنے کے لیے کیوں کہتے ہیں؟
کلمے کی شرطیں ارکان یا روزے کے یا نماز کے ارکان واجبات اگر ہم نہیں سیکھےگے تو کیا مسئلہ ہے ویسے بھی حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص کتے کی وجہ سے جنت میں گیا اور ایک عورت بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی تو آپ ہم پر علم کا یہ بوجھ کیوں ڈال رہے ہیں جبکہ ہمارے پاس وقت کی بھی کمی ہے۔
•
• شیخ صاحب ہمارے یہاں ( دنیا وی ) علم کے میدان بہت مقابلہ ہیں اور ہماری قوم اس میں بہت زیادہ پیچھے ہیں۔ جو تھوڑے بچے اس میں ہے ان کو نماز اور روزوں کا مسئلہ ہوتا ہے اس لیے قضاء کرتے ہیں ۔ کبھی کبھی کلاس چھوڑ کر جمعہ کی نماز کو جاتے ہیں توعلم میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اسکول / کلاسز والے والدین کو بلاتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ اس طرح سے مقابلے میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ ایسے ماحول میں آپ بچوں کو اور ان کے والدین کو کیا نصیحت کرتے ہیں؟
•
• میں نے ایک انوسٹر سے 2.5 لاکھ لئے تجارت میں لگانے کے لیے جس میں میں نے کہا تھا کہ میں ہر مہینہ تقریباً 20,000 روپئے دونگا اس سے کم یا اس سے زیادہ، اب وہ پیسے جہاں لگائے تھے وہ پھنس گئے ہیں اور میں ہر مہینہ اس کا فائدہ نہیں ادا کر پا رہا ہوں۔ اب کیا مجھے وہ 2.5 لاکھ بھی اس انوسٹر کو واپس کرنا ہے جبکہ شریعت میں ہمیں نفع اور نقصان دونوں کا لہاذ کرنا ہے؟
•
• میں نے 24 گھنٹوں کے گزرنے کے بعد بھی موزوں پر مسح کرتا رہا اور چار نمازیں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھ لی ہیں، کیا میری یہ نمازیں درست ہیں یا مجھے دوبارہ پڑھنی پڑیں گی؟ جبکہ میں بھول گیا تھا کہ 24 گھنٹے گزر چکے ہیں؟
•
پانچ اکتبور کو Teacher’s Day منایا جاتا ہے۔
اس کو منانے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس موقع پر تحفے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں؟
•
• فتاوی ارکان الاسلام – الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
1. Introduction
2. The reality of Jesus & Mary (peace be upon them)
3. Jesus (peace be upon him) was sent only to a specific nation.
4. The reality of the five pillars in Christianity.
5. The true religion.
Surah Baqarah mein 5 qissey hain jinmein Allah taala ne murdon ko zinda kiya hai
یوم النحر اور ایام التشریق کے اعمال
• Saab Say Akhri Rasool Muhammad(sallallahu alaihi wasallam) … Aur Baaz Kisi Nek Insaan Masalan Laat Ya Kisi Nabi Masalan Essa(alaihi asalaam) Ko Pukartay Thay
• سب سے آخری رسول محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) ۔۔۔ اور بعض کسی نیک انسان مثلا لات یا کسی نبی مثلا عیسی(علیہ السلام) کو پکارتے تھے
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
• فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
• Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
1. شرک کی تعریف اور اس کو جاننے کا حکم
2. شرک سے بچنے کی اہمیت
3. شرک کی قسمیں اور ان کی چند مثالیں
4. شرک اکبر اور اصغر میں فرق
اس کتاب کو مفت میں حاصل کرکے پڑھنے اور اپنے دوست و احباب میں تقسیم کرنے کے لیے publications@ashabulhadith.com پر اپنی گزارش بیجیں۔
▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️
1. Definition of polytheism and ruling on knowing it.
2. The importance of protecting oneself from polytheism.
3. Types of polytheism & its few examples
4. The difference between Major & Minor polytheism.
Send us an email to get its free copy for reading & distributing it amongst relatives & friends.
publications@ashabulhadith.com
▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️
Is kitaab ke chand mumaizaat:
1. Shirk ki ta’reef aur us ko jan-ne ka hukum.
2. Shirk se bachne ki ehmiyat
3. Shirk ki qismien aur chand misalein
4. Shirk-e-akbar aur asghar mein farq.
Is kitaab ko muft mein haasil karke padhne aur apne dost wa ahbaab mein taqseem karne ke liye publications@ashabulhadith.com par apni guzarish bhejein.
▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️
شبہات کا ازالہ : یہ حکمران فرمانبرداری کے لائق نہیں کیونکہ یہ قریش میں سے نہیں اور خلافت صرف قریشی امیر کے لیے ہی ہے
• تکفیر کی تعریف، قسمیں، تاریخ
• تکفیر کے متعلق اہل قبلہ کا اختلاف
• آخر اس موضوع پر بات کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
• تکفیر : تعریف، مرحلے، خطرہ، اسباب، شرطیں، ضوابط۔
• تکفیر معین اور غیر معین
• خوارج کے اہم اصول اور منہج کے قواعد
• جس نے کسی ایک صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں تنقیص کی یا اس سے بغض رکھا یا اس کی برائیاں بیان کی تو وہ شخص بدعتی ہے۔
• نفاق کا معنی۔
• ہم نصوص کو تسلیم کرتے ہیں اگر چہ ان کی تفسیر معلوم نہ بھی ہو۔
• جنت اور دوزخ دونوں مخلوق ہیں اور پیدا کر دی گئی ہیں۔
• اہل قبلہ میں جو بھی موحد ہو اور فوت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اگرچہ وہ گناہگار ہی کیوں نا ہو۔
• چوروں، ڈاکوؤں اور خوارج سے قتال کرنا جائز ہے
• ہم اہل قبلہ میں سے کسی کے بارے میں عمل کی وجہ سے جو وہ کرتا ہے جنت یا جہنم کی گواہی نہیں دیتے
• رجم (سنگسار) کرنا حق ہے شادی شدہ شخص جب زنا کرے
• اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ہم ان تینوں کو مقدم کرتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مقدم فرمایا اس میں کوئی اختلاف نہیں کرتے تھے۔
• ایمان قول و عمل ہے زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی۔
• جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔
• اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت پر ایمان
• ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ بے شک دجال نکلے گا اس کی بڑی نشانی یہ ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ کافر لکھا ہو گا
• اس پر ایمان کہ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نازل ہوں گے
• قیامت کے دن ترازو پر ایمان
• بے شک اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں سے کلام فرمائیں گے
• حوض کوثر پر ایمان لانا
• قبر کے عذاب پر ایمان لانا
• قرآن مجید اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے مخلوق نہیں
• روزِ قیامت اللّٰہ تعالیٰ کے دیدار پر ایمان لانا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے صحیح احادیث میں
• سنت عقل یا خواہش نفس سے نہیں پائی جا سکتی
• سنت تو صرف اتباع کا نام ہے اور ہوائے نفس کو ترک کرنے کا نام ہے
• ان لازمی سنتوں میں سے کوئی شخص کسی ایک سنت کو بھی اس طرح ترک کر دے کہ نہ تو اس کو قبول کرے اور نہ ہی اس پر ایمان رکھے تو وہ اہل سنت میں سے نہیں ہے۔
• تقدیر پر ایمان اچھی ہو یا بری
• سنت ہمارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار ہیں
• سنت قرآن مجید کی بہترین تفسیر ہے اور سنت قرآن مجید کے دلائل ہیں
• سنت (عقیدہ) میں قیاس نہیں ہے اور سنت کے لیے مثالیں بھی بیان نہیں کی جاتی
• سنت عقل یا خواہش نفس سے نہیں پائی جا سکتی
• سنت تو صرف اتباع کا نام ہے اور ہوائے نفس کو ترک کرنے کا نام ہے
• اہل بدعت سے اور اہل اہوا (خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں)سے بحث ومباحثہ، جدال اور جھگڑے کو ترک کرنا اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے رک جانا
• سنت کا معنیٰ
• اس چیز کو تھامے رکھنا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم تھے اور ان کی اتباع کرنا
• بدعات کو ترک کرنا
– تقدیر پر ایمان
– سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو مقدم کرنا
– حوض کوثر پر ایمان
– شفاعت پر ایمان
– ترازو اور پل صراط پر ایمان
– ایمان قول و عمل ہے
– قر آن اللّٰہ کا کلام ہے
– عذاب قبر پر ایمان
– قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان
– کسی مسلمان پر مرنے کے بعد جنت کی گواہی دینا جائز نہیں ہے
• ہر نیک و بد امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے
• جہاد تا قیامت جاری رہے گا (حکمران کے ماتحت)حکمران اچھا ہو یا برا
• اسی کے جھنڈے تلے صبر کرنا
• کسی کے جنتی اور جہنمی ہونے کی گواہی نہ دینا
• مگر ان عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کی گواہی دینا جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی
• موزوں پر مسح کرنا پاؤں دھونے سے افضل ہے
• جہری نمازوں میں “بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم” آہستہ پڑھنا افضل ہے
• تقدیر اچھی ہو یا بری ہو اس پر ایمان لانا
• قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں
• ایمان قول، عمل اور نیت (کا نام) ہے
• صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے آگے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما ہیں
• اور اس کے بعد عثمان و علی رضی اللّٰہ عنہما ہیں
• شرک کی تعریف اور اس کو جاننے کا حکم
• شرک سے بچنے کی اہمیت
• شرک کی قسمیں اور ان کی چند مثالیں
• شرک کا خطرہ۔۔۔
• Shirk ki ta’reef aur us ko jan-ne ka hukum
• Shirk se bachne ki ehmiyat
• Shirk ki qismien aur chand misalein
• Shirk ka khatrah…
• جہاں سلف صالحین رکے وہاں رک جاؤ
• سلف صالحین کے راستے کو لازم پکڑو
• فتنہ خلق قرآن کا رد
• فقہ اکبر کے تعلق سے ایک وضاحت
• اللّٰہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے
• قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں
• نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں کے نام
• واقعہ معراج حق ہے جو اس کا رد کرتا ہے وہ گمراہ ہے
• قیامت کی نشانیاں : دجال کا نکلنا، یاجوج و ماجوج، سورج کا مغرب سے نکلنا، عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کا نزول اور اس کے علاوہ جو بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے وہ حق ہے
• قیامت کے دن ظالموں سے قصاص لیا جائے گا
• جنت اور جہنم دونوں مخلوق ہیں اور دونوں کبھی بھی فنا نہیں ہوں گی
• جنت کی حوریں بھی ہمیشہ رہیں گی
• اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب بھی ہمیشہ رہے گا
• اللّٰہ تعالیٰ کا ثواب بھی ہمیشہ رہے گا
• اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہے اپنے فضل وکرم سے ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے عدل و انصاف سے گمراہ کر دے۔
• اللّٰہ تعالیٰ کا کسی بدکار کو سزا دینا عدل وانصاف ہے
• یہ کہنا جائز نہیں کہ شیطان مومن سے ایمان چھین لیتا ہے
• منکر و نکیر کا سوال برحق ہے
• قبر میں روح کا لٹایا جانا برحق ہے
• قبر کا عذاب برحق ہے
• اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کا جو علماء کرام نے ترجمہ کیا ہے فارسی زبان میں وہ جائز ہے سوائے ہاتھ کے بغیر تشبیہ اور بغیر تکییف کے
• اللّٰہ تعالیٰ کا قریب ہونا اور دور ہونا مسافت کے اعتبار سے نہیں ہے
• اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت اللہ تعالیٰ کی صفات سے ہی ممکن ہے
• اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کا کوئی بھی حق ادا نہیں کر سکتا
• عبادات توقیفی ہیں
• اہل الکبائر کے لیے شفاعت ثابت ہے
• قیامت کے دن اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا
• نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض کوثر حق ہے
• ایمان کی تعریف
• ایمان میں کمی اور زیادتی کے متعلق وضاحت
• مرجئہ کی اقسام
• امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ پر ارجاء کی تہمت کا ازالہ
• اسلام کی تعریف
• مراتب دین: اسلام، ایمان اور احسان
– عمل صالح کی شرطیں
– ریاکاری اور تکبر عمل برباد کر دیتے ہیں
– انبیاء کے لیے آیات (معجزات) ثابت ہیں
– اولیاء کی کرامات حق ہیں
– جو کچھ اللہ کے دشمنوں سے ظاہر ہوتا ہے جیسے شیطان، فرعون یا دجال سے ظاہر ہو گا نہ تو اسے آیت کہا جاتا ہے اور نہ ہی کرامت
– قیامت کے دن مومن اپنی آنکھوں سے اللہ تعالٰیٰ کا دیدار کریں گے
– موزوں پر مسح کرنا سنت ہے
– رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھنا سنت ہے
– ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے
– مرجئہ, خوارج اور معتزلہ کا رد
– ہم یہ نہیں کہتے کہ جو بھی عمل صالح کرتے ہیں وہ سب کے ضرور قبول ہوں گے۔ لیکن ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس نے کوئی بھی عمل کیا اس کی شروط کے مطابق اور مفسدات سے بھی پرہیز کیا اور کفر بھی نہیں کیا اور مرتد بھی نہیں ہوا اور اخلاق سیئہ سے بچتا رہا اور اس کا خاتمہ ایمان ہر ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل ضائع نہیں کرے گا اور اس کا اجر بھی اسے عطا فرمائے گا۔
– مومن کے گناہ اس کے ایمان کو نقصان پہنچاتے ہیں
– گنہگار مومن پر اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو بغیر عذاب کے اسے جنت میں داخل کر دے اور اگر عدل وانصاف کرے تو گناہوں کی سزا دینے کے بعد جنت میں داخل کر دے۔
– ریاکاری اور تکبر عمل برباد کر دیتے ہیں۔
• اللّٰہ تعالیٰ کے انبیاء معصوم ہیں
• انبیاء کے بعد سب سے افضل ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ہیں، اس کے بعد عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ، پھر عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللّٰہ عنہ،پھر علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ
• اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر صرف خیر سے کرنا
• خوارج اور معتزلہ کا رد
• امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی مختصر سوانح حیات (Biography)
• الكتاب : أصول الدين عند الإمام أبي حنيفة المؤلف : محمد بن عبد الرحمن الخميس حافظه الله
• What is the path of the believers?
• Why is it obligatory to follow the path of believers?
• Few examples to know the importance to follow the path of believers.
• What is the main reason for disunity among Muslim ummah?
• What is the only way to unite the Ummah & understand the Qur’an & Sunnah?
Jab hum safar ki niyat kar lein aur namaz ka waqt ho jaye to hum apne ghar se hi qasr parhengey ya phir 80 kilometer ki masafat ke baad qasr hogi? aur kya Jeddah walay Makkah ya Haram Shareef mein qasr parhengey jamaat ke ilawa ya infiradi tor par poori namaz ada karengey? Safar mein qasr karne ka sahih tareeqa kya hai?
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
﴿لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ ﴾
(جن لوگوں نے احسان کیا ہے اُن کے لیے حسنیٰ ہے اور اُس سے بھی زیادہ ہے)
﴿اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ﴾
(قرآن مجید ہدایت کرتا ہے أقوَم کی طرف (قائم ہے سیدھا راستہ ہے))
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
کیا رمضان کے مہینے میں، گھر میں چاند ،ستارے یا لالٹین والی لائٹیں لگائی جا سکتی ہیں؟ کیونکہ مسلمانوں کے لیے خوشی کی بات ہے کہ اللہ نے رمضان کے روزہ رکھنے کی توفیق دی، اور بچوں میں اس بات کو فروغ دینا کہ یہ ہمارے لیے خوشی اور اللہ کی رحمت ہے؟ بے شک ہم عبادات اور شکر کے ذریعے اپنے رب کے شکرگزار ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ہم گھر میں تھوڑی سجاوٹ کر سکتے ہیں؟ کیا یہ کفار سے مشابہت تو نہیں ہوگی؟ جیسا کہ کفار کرسمس کی خوشی میں گھروں کو لائٹوں سے سجاتے ہیں؟
Kuch log naaf utrney par uska ilaaj is tarah kerwatay hain ke phone par kisi sahib se rabita hota hai woh bina mareez ko dekhe check kere thori der mein hi phone par hi bata dete hain ke naaf utri hai ke nahi phir agar naaf utri hoti hai woh sahib kuch parhte hain 3 din tak mareez bilkul theek hojata hai. Kya aisay ilaaj karwana jayez hai?aur kya yeh jadu aur kahanat mein shumaar hoga? aur jab hum samjhane ki koshish karte hain ke yeh durust nahi lag raha na karwaye to kehte hain ke doctor bhi to kabhi kabhi phone par hi bata deta hain sun kar ke qabz ya motion hai yeh dawa le lo jabkay woh jadu nahi to yeh jadu kaisay hogaya
Iddah of Divorced women who reached menopause or those who have not yet reached puberty
Etiquettes of a widow going through Iddah
Two scenarios in which lineage of a child is not linked to the husband
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله
Islamic legislation about Oath of Abstinence and its period
[دنیا کی بے ثباتی]
[خطا، نسیان اور جبر اکراہ کی معافی]
[حسن معاشرت، تیسیر، ستر عیوب، طلب علم اور عمل کی فضلیت]
عَنْ [أَبي هُريرةَ] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ: قالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “لاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَنَاجَشُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا وَلاَ يَبِعْ بَعْضُكُم عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يَخْذُلُهُ، وَلاَ يَكْذِبُهُ، وَلاَ يَحْقِرُهُ. التَّقوَى هَهُنَا وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِه ثَلاَثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ المُسْلِمَ، كُلُّ المُسْلِمِ عَلَى المُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وعِرْضُهُ”. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سیدنا أبو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک دوسرے پر حسد مت کرو ، کوئی چیز خریدنے کا ارادہ نہ ہو اور کوئی دوسرا شخص خرید رہا ہو تو خواہ مخواہ بولی میں حصہ لے کر قیمت نہ بڑھاؤ کہ وہ چیز اسے مہنگی ملے ، آپس میں بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو ، کسی کی بیع پر کوئی شخص بیع نہ کرے ، اللہ تعالیٰ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس مسلمان بھائی پر ظلم کرتا ہے نہ اُس کی مدد ترک کرتا ہے اور نہ اسے جھٹلاتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے – اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا “التَّقْوَى هَاهُنَا” (تقویٰ یہاں ہے)، کسی انسان کے لیے اتنا شَر ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہے ۔
عَنْ [أَبي سعيدٍ الخُدريِّ] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ: سَمِعتُ رسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقولُ: “مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإيمَانِ”. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص بُرائی کو دیکھے وہ اُسے اپنے ہاتھ سے بدلے ، اگر اُس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے ، اور اگر اُس کی استطاعت بھی نہ ہو تو دل سے اُسے بُرا جانے،یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔
[امر بالمعروف و نہی عن المنکر]
عنْ [ابنِ عبَّاسٍ] رَضِي اللهُ عَنْهُما، أنَّ رسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: “لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْواهُمْ، لاَدَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَاءَهُمْ، لَكِنِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ”. حديثٌ حَسَنٌ رواه البيهقيُّ وغيرُه هكذا، وبعضُه في الصحيحينِ.
سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر لوگوں کو اُن کے دعوے کے مطابق (یعنی بلا تحقیق) دے دیا جائے تو لوگ دوسروں کے اموال اور خون پر دعوے کرنے لگیں گے لہذا اصول یہ ہے کہ مدعی ثبوت پیش کرے اور مدعا علیہ اگر انکاری ہو تو وہ قسم اٹھائے ۔
عَنْ [أَبِي سعيدٍ سعدِ بنِ سِنانٍ الخُدْريِّ] رَضِي اللهُ عَنْهُ، أنَّ رسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: “لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ “. حديثٌ حسَنٌ رواهُ ابنُ ماجَه والدَّارَقُطْنِيُّ وغيرُهُما مُسْنَدًا، ورواهُ مالكٌ في الْمُوَطَّأِ مُرْسَلاً، عَنْ عَمْرِو بنِ يَحْيَى، عَنْ أبيهِ، عَنِ النبيِّ صلّى اللهُ علَيْهِ وسلَّم، فأَسْقَطَ أبا سعيدٍ، وَلَهُ طُرُقٌ يُقَوِّي بعضُها بعضًا.
سیدناأبوسعيدسعد ابن سنان الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :” لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ” (نہ کسی کو ضرر پہنچاؤ نہ ضرر کا انتقام لو )۔
عن [أبي العبَّاسِ سَهْلِ بنِ سَعْدٍ الساعديِّ] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ: (جاءَ رَجُلٌ إلى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقالَ: يا رسولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللهُ وأَحبَّنِي النَّاسُ. فَقَالَ: “ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ”. حديثٌ حَسَنٌ رواهُ ابنُ ماجَه وغيرُهُ بأسانيدَ حَسنةٍ.
سیدنا أبو العباس سہل ابن سعد الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب اسے بجا لاؤں تو اللہ تعالیٰ اور تمام لوگ مجھے سے محبت کریں : اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہوجاؤ لوگ تم سے محبت کریں گے ۔
عَن [أَبي ثَعْلبةَ الْخُشَنِيِّ جُرثُومِ بنِ ناشرٍ] رَضِي اللهُ عَنْهُ عَن رسولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: “إنَّ اللهَ تَعَالى فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلاَ تَعْتَدُوهَا، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلاَ تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْها”. حديثٌ حسنٌ رواه الدَّارَقُطْنِيُّ وغيرُه.
سیدنا أبو ثعلبة الخشنی جرثوم بن ناشب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو فرض قرار دیا ہے انہیں ضائع مت کرو ،اور بعض حدیں بیان فرمائی ہیں پس اُن حدوں کو پار مت کرو (یا اُن سے تجاوز مت کرو)، اور بعض چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اُن کی حرمت کو پامال مت کرو ، اور بعض چیزوں سے سکوت فرمایا ہے (خاموشی فرمائی ہے) تم لوگوں پر رحم کرتے ہوئے عمداً ( یعنی بغیر نسیان بغیر بھول کے) پس اُن چیزوں کی کھوج میں مت پڑو۔
سیدنا معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !کوئی ایسا عمل مجھے بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور کر دے ۔
اللہ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تُو نے ایک انتہائی عظیم چیز کا سوال کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جس کے لیے آسان فرمادے اُس کے لیے یقیناً بڑا آسان کام ہے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، بیت اللہ کا حج کرو ، پھر اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تجھے نیکی کی دروازے نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو یوں مٹا ڈالتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور انسان کا رات کو نماز ادا کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں (ترجمہ): “اور اہل ایمان کے پہلو رات کو بستر سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ اپنے ربّ کو اُس کے عذاب کے خوف اور رحمت کی امیدکے ملے جلے جذبات و کیفیات سے پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں، کوئی نہیں جانتا کہ ہم نے اُن کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے یہ سب اُن کے کیے ہوئے اعمال کی جزاء اور بدلہ ہو گا(السجدۃ:16-17) “، پھر اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تجھے دین کی بنیاد اُس کا ستون اور اُس کا بلند ترین عمل نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں نہیں !اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دین کی بنیاد اسلام ہےاس کا ستون نماز ہے اور افضل و بلند عمل جہاد ہے،پھراللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :کیا میں تجھے ان تمام اعمال کی بنیاد اور اصل کی خبر نہ دوں؟میں نے کہاجی ہاں یارسول اللہ! کیوں نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا:”اسے قابو میں رکھو”۔میں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس کا مؤاخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اے معاذ! تجھے تیری ماں روئے یا گم پائے،لوگوں کو چہروں کے بل (یا ناک کے بل)جہنم میں ان کی زبانوں کی کٹائی (یاکمائی) ہی تو لے جائے گی۔
عَنْ [أَبي نَجِيحٍ العِرْباضِ بنِ سَاريةَ] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ: (وَعَظَنا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْها القُلوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْها العُيُونُ، فَقُلْنا: يا رسولَ اللهِ، كَأنَّها مَوْعِظَةُ مُودِّعٍ فَأَوْصِنا. قالَ: “أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ؛ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ”). رواهُ أبو داوُدَ والتِّرمِذِيُّ، وقالَ: حديثٌ حَسَنٌ صحيحٌ.
سیدنا ابو نجيح عرباض بن سارية رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک وعظ فرمایا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بہہ پڑیں ، ہم نے کہا :یا رسول اللہ ! یہ تو گویا الوداع کہنے والے یعنی چھوڑ کر جانے والے کا سا وعظ ہے آپ ہمیں مزید وصیت فرمائیں ، اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں ، اور وصیت کرتا ہوں کہ اپنے اوپر آنے والے حکام اور أمراء کے احکام سننا اور فرمانبرداری کرنا خواہ تم پر کوئی حبشی غلام ہی حاکم بن جائے، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقیناً بہت سے اختلافات دیکھے گا ، ان حالات میں تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا اور اسے داڑھوں سے قابو کرنا ،دین میں نئے نئے کاموں کے ایجاد کرنے سے بچ کر رہنا کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
عن [النَّوَّاسِ بنِ سِمْعانَ] رَضِي اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: “الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أنْ يَطَّلِعَ عليْهِ النَّاسُ”. وعن [وابِصَةَ بنِ مَعْبَدٍ] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ: (أتيتُ رسولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقالَ: “جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ” قُلْتُ: نَعَمْ. قالَ: “اسْتَفْتِ قَلْبَكَ؛ الْبِرُّ مَا اطْمَأنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالإِثْمُ مَا حَاكََ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ”).
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بھلائی حسن اخلاق ہےاور جو چیز تیرے دل میں کھٹکے اور تُو چاہتا ہو کہ لوگوں کو اس کی خبر نہ ہو وہ گناہ ہے۔
عَنْ [أَبي هُريرة] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ: (قالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ؛ تَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ, وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ”)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انسان پر ہر جوڑ کی طرف سے روزانہ صدقہ کرنا ضروری ہے ، دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے ،سواری پر سوار ہونے والوں کی مدد کرنا سواری پر بیٹھنے کے لیے صدقہ ہے، یا سواری پر اُس کا سامان لاد کر اُس کی مدد کرنا صدقہ ہے ، اچھی بات کرنا صدقہ ہے ،جو قدم نماز کے لیے اٹھائے گئے (یا اٹھائے جاتے ہیں) ہر قدم پر صدقہ ہے ، راستے سے مضر چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرتے ہیں ،”يَا رَسُولَ اللهِ“ (اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ”ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ“ (اہل ثروت (مالدار لوگ) تو أجروثواب میں سبقت لے گئے ہیں) ”يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي“ (وہ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں) ”وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ“ (اور وہ ہماری طرح روزے رکھتے ہیں) ”وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ“ (اور وہ اپنے زائد مال سے صدقہ بھی کرتے ہیں) ”قَالَ“ (اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) ”أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ؟“ (کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی صدقے کا سامان مہیا نہیں کیا؟)”إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً“ (بے شک ہر دفعہ سبحان اللہ کہنے میں صدقہ ہے) ”وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً“ (اور ہر مرتبہ اللہ اکبرکہنے میں صدقہ ہے) ”وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً“ (اور ہر مرتبہ کہنے میں صدقہ ہے) ”وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً“ (اور ہر مرتبہ لا إلہ إلا اللہ کہنے میں صدقہ ہے) ”وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ“ (اور اچھائی کی طرف بلانا بھی صدقہ ہے) ”وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ“ (اور بُرائی سے روکنا بھی صدقہ ہے) ”وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ“ (اور تمہاری شرمگاہوں میں بھی صدقہ ہے) ”قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ“ (صحابہ کرام نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!) ”أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟“ (کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرے اور اسے ثواب بھی ملتا ہے؟) ”قَالَ“ (اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) ”أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ؟“ (کیا خیال ہے اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرے تو اسے گناہ نہ ہوگا؟) ”فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ“ (اسی طریقے سے اسے حلال مقام پر استعمال کرنے پر بھی أجر ملے گا)۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمایا : میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر رکھا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے لہذا تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو ، میرے بندو !تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں بس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ضرور دوں گا ، میرے بندو !تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا دوں تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں ضرور کھانا دوں گا ، میرے بندو !تم میں سے سب ننگے ہیں سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس دوں گا ،میرے بندو !تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کرنے والا ہوں تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا،میرے بندو !تم مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو ، میرے بندے! تم میں سے اگلے پچھلے إنس اور جِن سب کے سب نیک ترین بن جائیں (یعنی سارے کے سارے اگلے اور پچھلےإنس اور جِن) ایک شخص کی مانند جس کا دل سب سے اچھا ہو سب سے پاک ہو سب اس حالت میں بن جائیں تو اس سے میری حکومت میں بالکل اضافہ نہ ہو گا ،میرے بندو ! اگر تم میں سے اگلے اور پچھلے إنس اور جِن بَدترین بن جائیں (سب سے بدترین بن جائیں سارے کے سارے) تو اس سے میری حکومت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ،میرے بندو !اگر تمہارےاگلے پچھلے إنس اور جِن سارے کے سارے کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کے مانگنے کے مطابق دیتا جاؤں تو اس سے میرے خزانوں میں بس اتنی سی کمی آتی ہے جتنی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالنے سےسمندر میں کمی آتی ہے (اللہ اکبر)، میرے بندو !میں تمہارے اعمال کو محفوظ کر رہا ہوں تمہیں اُن کی پوری کی پوری جزاء دوں گا پس جو شخص اچھا نتیجہ پائے وہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کرے اور جسے اچھا نتیجہ نہ ملے تو وہ صرف اپنے آپ ہی ملامت کرتا رہے ۔
عن [أبي مالكٍ الحارثِ بنِ عاصمٍ الأشْعَرِيِّ] رَضِي اللهُ عَنْهُ، قالَ: (قالَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: “الطُّـهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ للهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ للهِ تَمْلأُ — [أَو تَمْلَآنِ] — مَا بَيْنَ السَّمَواتِ وَالأَرْضِ، وَالصَّلاَةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو؛ فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا”)
سیدنا ابو مالک حارث ابن عاصم أشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پاکیزگی نصف ایمان ہے ،الحمد للہ کا کلمہ ترازو کو بھر دے گا (یا ترازو کو بھر دیتا ہے) ، سبحان اللہ اور الحمد للہ یہ دونوں کلمے یا ان میں سے ایک زمین و آسمان کے مابین خلاء کو پُر کرتے ہیں ، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے ، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہو گا ، ہر شخص روزانہ اپنا سودا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں یا تو خود کو آزاد کر لیتا ہے یا خود کو ہلاک کر دیتا ہے
عن [أبي عبدِ اللهِ جابرِ بنِ عبدِ اللهِ الأنصاريِّ] رَضِي اللهُ عَنْهُما، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إذا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوباتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قالَ: “نَعَمْ”. رواه مسلِمٌ. ومعنى حَرَّمْتُ الحرامَ: اجْتَنَبْتُه. ومعنى أَحْلَلْتُ الحلالَ: فَعَلْتُه مُعْتَقِدًا حِلَّه.
سیدنا ابو عبداللہ جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
فرمایئے اگر میں صرف فرض نمازیں ادا کروں۔ صرف رمضان کے روزے رکھوں۔
حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں جا سکوں گا؟
الله تعالیٰ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔
عَن [أبي عمرٍو] وَقِيلَ: [أَبي عَمْرةَ سُفيانَ بنِ عَبْدِ اللهِ] رَضِي اللهُ عَنْهُ قالَ قُلْتُ: (يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الإسلامِ قَوْلاً لا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ. قالَ: “قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ “). رواه مسلِمٌ.
سیدناابو عمر سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے کہا :
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی واضح بات فرمائیں کہ اس کے متعلق مجھےآپ کے علاوہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا :
تو کہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور پھر اس پر ثابت قدم رہے۔
قالَ رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ”
سیدنا ابو مسعود عقبة بن عمرو الأنصاري البدري رضي الله عنه سے روایت ہے کہ اللہ تعلی کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں “بے شک سابقہ نبوت کے کلام میں سے لوگوں نے جو باتیں پائیں ان میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ جب تو حیا چھوڑ دے تو جو دل چاہے کر” ”
Saiyyedina Abu Mas’ood Uqbah bin Amr Al Ansari Al Badri Radhiallahu Ta’ala Anhu sey rewayat hai Allah Ta’ala ke pyarey paighambar ﷺ farmatey hain “Beshak sabiqah nubuwwat ke kalaam mein sey logon ne jo batein payein hain un mein sey ek yeh baat bhi hai keh ‘Jab tu haya chorr dey toh jo dil chahe kar’.”
عَن [أَبِي العبَّاسِ عبْدِ الله بنِ عَبّاسٍ] رَضِي اللهُ عَنْهُما قالَ: (كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: “يَا غُلاَمُ، إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ؛ احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ لَكَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ”). رواه التِّرمذيُّ، وقالَ:حديثٌ حَسَنٌ صحيحٌ. وفي روايةِ غيرِ التِّرمذيِّ: “احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَى اللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”
سیدنا ابوالعباس عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے(گدھے پر) تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” میں تمہیں چند اچھی باتیں بتاتا ہوں، تو اللہ تعالی کے احکام(دین) کی حفاظت کر (یعنی اسکے احکام کی پابندی کر) وہ تمہاری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالی کے احکام کی حفاظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ تعالی ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالی ہی سے مدد طلب کر، یاد رکھ ساری دنیا جمع ہو کر تجھے فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تجھے کسی بات کا فائدہ اور نفع نہیں دے سکتی سوائے اسکے جو اللہ تعالی نے تیرے لۓ مقرر کر رکھا ہے اور اگر سارے لوگ مل کر تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے سوائے اس نقصان کے جو اللہ تعالی نے تمہارے لیے مقرر کر رکھا ہے ۔ قلم اٹھا لۓ گئے اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔ (ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے) ترمذی کے علاوہ دوسرے محدثین کی روایت میں یوں ہے:
” تو اللہ تعالی کے احکام کی حفاظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، تو خوشہالی میں اسکی طرف رجوع کر وہ تنگدستی کے وقت تیری مدد فرمائے گا، یاد رکھو جو چیز تمہیں نہیں ملی وہ چیز تمہیں مل ہی نہیں سکتی تھی اور جو کچھ تجھے مل گیا اس سے تو محروم نہیں رہ سکتا تھا، یاد رکھو اللہ تعالی کی مدد صبر سے وابستہ ہے اور تکالیف اور مصائب کے بعد کشادگی اور فراخی آتی ہے اور تنگی کے بعد آسانی بھی ہوتی ہے۔
Saiyyedina Abul Abbas Abdullah bin Abbas radhiallahu ta’ala anhu sey rewayat hai keh ek roz main Nabi Akram ﷺ ke piche (gadhey par) tha toh Aap ﷺ ne farmaya “Ya Ghulam (Aye Pyarey bachche) main tumhein chand achchi batein batata hun, Tu Allah Ta’ala ke ahkam(deen) ki hifazat kar (yani uskey ahkam ki pabandi kar) woh tumhari hifazat kare ga, tu Allah Ta’ala ke ahkam ki hifazat kar tu usey apne samney paye ga, Jab tu sawal kare to Allah Ta’ala hi sey sawal kar, Jab tu madad talab kare to Allah Ta’ala hi sey madad talab kar, yaad rakh sari duniya jama hokar tujhe fayedah pohchana chahey to woh tujhe kisi baat ka fayedah aur nafa nahi de sakti seway iskey jo Allah Ta’ala ne terey liye muqarrar kar rakha hai aur agar sarey log mil kar tujhe nuqsan pohchana chahein toh woh tera kuch bhi nahi bigad saktey seway us nuqsan ke jo Allah Ta’ala ne tumharey liye muqarrar kar rakha hai. Qalam Utha liye gaye aur saheefey khushk ho chukey hain.” (Tirmizi ne isey Hasan Saheeh kaha hai) Tirmizi ke elawah dusrey muhadditheen ki rewayat me yun hai
“Tu Allah Ta’ala ke ahkam ki hifazat kar tu usey apne samne paye ga, tu khush hali mein uski taraf ruju kar woh tangdasti mein teri madad farmaye ga, yaad rakho jo cheez tumhein nahi mili woh cheez tumhein mil hi nahi sakti thi aur jo kuch tujhey mil gaya uss sey tu mehroom nahi rah sakta tha, yaad rakho Allah Ta’ala ki madad sabr sey wabasta hai aur takaleef aur masayeb ke baad kushadgi aur farakhi aati hai aur tangi ke baad aasaani bhi hoti hai”
رسولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: “اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ”
سیدنا ابو ذر جندب بن جنادة رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا ابو عبد الرحمن معاذ بن جبل رضي الله عنه سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اور گناہ کے بعد نیکی کیا کرو وہ نیکی اس گناہ کو مٹا ڈالے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھےاخلاق سے پیش آیا کرو۔ ”
Saiyyedina Abu Zar Jundub bin Janadah radhiallahu anhu aur saiyyedina Abu Abdir Rahman Mauz bin Jabal radhiallahu Ta’ala anhu sey rewayat hai Rasulullah ﷺ ney farmaya “Tum jahan kahi bhi ho Allah Ta’ala sey dartey raho aur gunaho ke baad neki kiya karo woh neki uss gunah ko mita dalegi aur logon ke saath achchey akhlaq sey pesh aaya karo.”
رسولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ: “إِنَّ اللهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ”.
سیدنا ابو يعلى شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعلی کے پیارے پیغمبر ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ” بے شک اللہ تعالی نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے پس جب تم قتل کرو تو احسان کے ساتھ یا احسان سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو بھی احسان کے ساتھ ذبح کرو، تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری کو خوب تیز کر لو اور اپنے ذبیحے کو راحت پہنچاؤ ”
Saiyyedina Abu Ya’la Shaddad bin Auws radhiallahu anhu Allah Ta’ala ke pyarey paighambar ﷺ sey riwayat kartey hain Aap ﷺ ney farmaya ” beshak Allah Ta’ala ney har cheez ke sath ehsan karney ka hukm diya hai pas tum qatl karo toh ehsan ke sath ya ehsan sey qatl karo aur jab zibah karo to bhi ehsan ke sath zibah karo, tumhein chahiye keh apni churi ko khub tez karlo aur apney zabihey ko rahat pohchao”
(أنَّ رَجُلاً قالَ للنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِني. قالَ: “لاَ تَغْضَبْ.” فَرَدَّدَ مِرارًا، قالَ: “لاَ تَغْضَبْ”)
سیڈنا أبو هريرة رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا “آپ مجھے وصیت کیجئے”۔ اللہ تعالی کے پیارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا ” غصہ مت کرو ” اس نے بار بار اپنا سوال دہرایا تو اللہ کے رسول ﷺ نے بار بار یہی جواب دیا ” غصہ مت کرو “.
Sayyaduna Abu Hurairah Radhiallahu Anhu sey riwayat hai keh ek shakhs ney Nabi Kareem ﷺ ki khidmat mein arz kiya “Aap mujhe wasiyyat kijiye”. Allah Ta’ala ke Pyarey Paighambar ﷺ ney farmaya “Ghussa mat karo” uss ney baar baar apna sawal dohraya toh Allah kay Rasool ﷺ ney baar baar yehi jawab diya “Ghussa mat karo”.
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ
جو اللہ تعالی پر ایمان اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے پس وہ خیر بات کہے یا خاموشی اختیار کرے اور جو اللہ تعالی پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے پس وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اور اسکی عزت کرے اور جو اللہ تعالی پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے پس وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور اسکی عزت کرے
Jo Allah Ta’ala par eeman aur aakhirat par eeman rakhta hai pas woh khair baat kahey ya khamoshi ikhteyar karey, aur jo Allah Ta’ala par aur aakhirat par eeman rakhta hai pas woh apney padosi ka ikraam karey aur uski izzat karey, aur jo Allah Ta’ala par aur aakhirat par eeman rakhta hai pas woh apney mehman ka ikraam karey aur uski izzat karey.
[اسلامی آداب معاشرت] [Islami adaab Maashrat]لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ: الثَّيِّبِ الزَّانِي، وَالنَّفْسِ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكِ لِدِينِهِ الْمُفَارِقِ لِلْجَمَاعَةِ
کسی مسلمان کا خون حلال نہیں الا یہ کہ ان تین صورتوں میں : شادی شدہ زانی ، جان کے بدلے جان (یعنی قاتل جس سے قصاص لینا ہو یعنی اسکو قتل کرنا ، دین کا تارک جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا
Kisi musalman ka khoon halal nahi illa ye ke in teen sooraton mein: shadi shuda zaani, jaan ke badlay jaan (yani qaatil jisse qisaas lena ho yani usko qatal karna, deen ka taarik jamaat se elahedgi ikhtiyar karne wala
[خون مسلم کی حرمت اور جواز قتل کی تین صورتیں]اور اگر کسی خاتون کو اس کے سسرال والے مجبور کریں الرضاعة کی مدت کو 5 سال بڑھانے پر، اس حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَِخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مکمل ایمان دار نہیں ہو سکتا ہے جب تک کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیےوہی نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے.
[اسلامی اخوت، تکمیل ایمان]مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ
کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے
[مسلمانوں کا غیر متعلق امور سے اجتناب و احتراز]
• وقوله : ﴿ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴾ (البقرۃ:253)
• وقوله : ﴿اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ ﴾ (المائدۃ:1)
• وقوله : ﴿فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ﴾(الانعام:125)
2. جو بہت ہی اہم امور ہیں وہ منتقل ہو جاتے ہیں نفی اور اثبات میں اس سے اوپر والے درجے کی طرف یا اس سے نیچے والے درجے کی طرف
سوال یہ ہے کہ جو قربانی ہم کرینگے وہ ہماری والدہ کے نام سے ہونگی یا میں بڑا بیٹا ہو تو میرے اور اہل خانہ کی طرف سے
• اہل سنت والجماعت کا کوئی انحراف یا دوری نہیں ہے، اس چیز سے جو انبیاء علیہم السلام لے کے آئے ہیں یقین وہ ہی صرط مستقیم ہے، ان کا راستہ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، انبیاء میں سے، صدیق میں سے، شہداء میں سے، صالحین میں سے۔
• کیا یہ بات درست ہےسجدے کی وجہ سے جو پیشانی پرایک نشان بن جاتا ہے یہ صلح کی علامت ہے یا صالح اور بزرگ لوگوں کی علامت ہے؟ (02:11)
• انگشت شہادت کو ہلانا تشہد میں شروع سے لے کر آخر تک اس کا حکم کیا ہے؟ (04:26)
• تورک کیا ہوتا ہے تورک کسے کہتے ہیں؟ (10:31)
• کیا مرد اور عورتوں دونوں کے لیے برابر ہے؟ (11:58)
• نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا کیا حکم ہے؟ (12:23)
• اگر جماعت قریب ہو یا جماعت قائم ہو جائے اور نمازی کو قضائے حاجت محسوس ہو جائے (یا پیشاب آئے یا پاخانہ آیا ہے) تو کیا کرے پیشاب پاخانے کو روک کر نماز کی طرف چلا جائے باجماعت نماز پڑھ لے یا پہلے اپنی حاجت پوری کر لے بعد میں نماز کی طرف چلا جائے؟ (15:55)
• نماز کے دوران آنکھیں بند کرنے کا کیا حکم ہے ؟ (17:59)
• انگلیوں کے چٹخارے نکالنا نماز کے دوران اس کا کیا حکم ہے کیا اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے ؟ (19:18)
• نماز کے دوران جو وسوسے آتے ہیں ان کو دور کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین مرتبہ بائیں جانب دیکھ کرتھو تھو کریں یہ جو حرکت ہے یہ جوکام ہے کیا حکم ہے اس کاکہاں پر آئے گا پانچ میں سے ؟ (24:22)
• سُترے کا کیا حکم ہے اور اس کی مقدار کیا ہے ؟ (24:55)
• کیا نمازی کے لیے جائز ہے نماز کے دوران اگر جنت کا ذکر آئے کا دوزخ کا ذکر آئے تو جنت کے ذکر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے جنت کی اور دوزخ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے جہنم کی ؟ اور کیا فرق ہے مأموم کی منفرد میں (یعنی مقتدی میں یا منفرد میں کوئی فرق ہے ان میں )؟ (28:16)
• اگر امام ایک رکعت زیادہ پڑھ لے (امام نے ایک رکعت زیادہ پڑھی) اور آپ ایک رکعت بعد میں آئے ہیں مسبوق ہیں تو کیا میری نماز درست ہے اور کیا اگر میں ایک رکعت دوبارہ پڑھوں تو نماز میری درست ہے کہ نہیں ؟ (29:25)
• کیا دعائےقنوت میں (یعنی وتر کے قنوت میں) دونوں ہاتھ اٹھانا مسنون ہے اور اس کی دلیل کیا ہے ؟ (31:55)
• کیا سجدۂ تلاوت کے لیے طہارت شرط ہے ؟ اور اس سجدے کا صحیح لفظ کیا ہے کیا پڑھنا چاہیے؟ (33:25)
• دو رکعت پڑھنا شادی کی رات میں میاں اور بیوی ایک ساتھ اس کا کیا حکم ہے؟ (37:25)
• ایک گروہ ہے لوگوں کا ایک ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں کیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر میں اسی جگہ پر نماز باجماعت پڑھ لیں یا اُن پر واجب ہے کہ وہ مسجد کی طرف جا کر نماز باجماعت پڑھ لیں ؟ (41:00)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ بعض لوگ بازاروں میں دکانوں کے قریب مصلیٰ بنا لیتے ہیں؟ (43:44)
• وقت التلقین کیا ہے (یعنی مرتے وقت شخص کو جو ہے کب کلمہ شہادت اور کلمہ توحید کی تلقین دینی چاہیے)؟ (46:08)
• کیا جائز ہے یا کیا حکم ہے جب کوئی شخص مر جاتا ہےتو پھر اس کے جنازے کو اس کے دفن کو تاخیر کر دیتے ہیں اس وجہ سے کہ کوئی اس کے رشتے دار آنے والے ہیں دور سے اس کا کیا حکم ہے ؟ (47:40)
• کسی کی موت کے متعلق خبر دینا کہ فلان شخص مر گیا ہے اس کے دوستوں کو رشتےداروں کو تاکہ وہ اکٹھے ہو جائیں کیا یہ نوحے میں شامل ہوتا ہے یا نعی ممنوع میں شامل ہوتا ہے یا نہیں ؟ (50:22)
• بعض اوقات شدید ایکسیڈنٹ ہوتا ہے (اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ فرمائے) اُن ایکسیڈنٹس میں پوری باڈی تو نہیں ملتی جسم کے بعض ٹکڑے (حصے) ملتے ہیں (ہاتھ ہوں یا پاؤں ہو ں یا سَر ہو گیا) ایسی صورت میں کیا ان ٹکڑوں کو جمع کرکے غسل دیا جائے گا ؟ کفن کیسے دیا جائے گا ؟کیا نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟ (52:02)
• اگر عورت کو ابارشن (Abortion) ہو جاتا ہے اور ابارشن کی جو عمر ہے وہ چھ مہینے ہے تو کیا اس ابارشن کا جو بچہ ہے جو ابارٹڈ(Aborted) ہوا ہے کیا اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، غسل اور کفن دیا جائے گا یا نہیں ؟ (55:04)
• بے نمازی پر نماز جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ ایک بے نمازی مکمل بے نمازی ہے دوسرا شک ہے کہ پڑھتا ہے نہیں پڑھتا ، تیسرا پتہ نہیں ہے نمازی ہے بے نمازی ہے کیا حکم ہے نماز جنازہ کا؟ اور کیا اس کا جو ولی ہے وہ نماز کے لیے اس کو آگے کرے گا مسجدمیں لے کر جائے گا یا نہیں ؟ (57:39)
• کیا جنازے کی نماز کا خاص محدود وقت ہے ؟ اور کیا رات کو دفن کرنا جائز ہے ؟ اور کیا اس کا کوئی عدد معین ہے ؟ اور کیا قبرستان میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ (1:00:06)
• غائبانہ نماز جنازہ کیا جائز ہے یا نہیں اس کی کوئی شروط ہیں ؟ (1:02:01)
• قبروں پر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور دعا کرنا میت کے لیے قبر کے قریب بیٹھ کر ،یا اپنے لیے دعا کرنا قبر کے قریب کیا یہ جائز ہے؟ (1:05:13)
• جنت البقیع میں (بھائی کا یہ سوال ہے) بعض لوگ ایک نقشہ لے کر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ فلان کی قبر ہے یہ سیدنا عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ) کی قبر ہے، یہ سیدہ فاطمہ( رضی اللہ عنہا) کی قبر ہے ، یہ فلان کی قبر ہے؟ (1:07:31)
• بعض لوگوں میں عادت ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے تو اس کے گھر میں قرآن مجید ٹیپ ریکارڈر میں بلند آواز میں چلاتے ہیں اس عمل کا کیا حکم ہے ؟ (1:08:18)
• اگر مأموم جو ہے وہ امام کو رکوع کی حالت میں پا لے تو پھر ایک تکبیر پڑھے گا یا دو تکبیریں پڑھے گا ؟ (02:11)
• دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ لیں اس طریقے سے اس کا کیا حکم ہے ؟ اور ناف کے نیچے رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ اور کیا مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق ہے یا نہیں ؟ (06:21)
• آمین کہنا نماز میں کیا حکم ہے؟ (13:10)
• سورۃ الفاتحہ کا حکم کیا ہے نماز میں؟ (14:13)
• ”مسبوق “ جو شخص باجماعت نماز پڑھنےکے لیے دیر سے آیا ہے اور امام کو رکوع کی حالت میں پا لے اس کی یہ رکعت گنی جائے گی یا نہیں؟ (25:56)
• حمام کی چھت کے اوپر نماز پڑھنا اس کا کیا حکم ہے ؟ (14:42)
• اگر کسی شخص نے نماز باجماعت پڑھائی قبلے کے علاوہ رُخ کر کے تو حکم کیا ہے ؟ (16:12)
• ”حكم التلفظ بالنية“ زبان سے نیت پڑھنے کا حکم ؟ (20:19)
• نفل پڑھنے والے شخص کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جیسا کہ عام طور پر ماہ رمضان میں تراویح کی نیت سے امام نماز پڑھتا ہے اور بعض لوگ امام کے پیچھے فرض عشاء کی نماز کی نیت سے نماز پڑھتے ہیں ؟ (25:25)
• ایک شخص مسافر ہے اور امام مقیم ہے ( مثال کے طور پر عشاء کی نماز ہے ) آخری دو رکعت میں یعنی تیسری رکعت میں وہ شامل ہوا ہے اب مسافر کیا کرے گا کہ دو رکعت کے بعد امام کے ساتھ سلام پھیر دے گا یا مکمل نماز پڑھے گا؟ (31:04)
• مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے لیے جلدی جلدی چلنے کا حکم کیا ہے(تیزی کے ساتھ) ؟(35:06)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ اگر کوئی شخص دیر سے آئے اور امام تشہد میں بیٹھا ہے آخر میں کیا وہ تشہد میں شامل ہو جائے الگ سے نماز پڑھے انتظارکر کے ؟ (37:47)
• مسجد میں بلند آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا کیا حکم ہے ؟(40:08)
• بعض لوگ جب مسجد میں داخل ہوتے ہیں اقامت کے قریب قریب تو وہ انتظار کرتے ہیں اور تحية المسجدنہیں پڑھتے اُن کا یہ عمل درست ہے؟ (42:41)
• کہ اگر کسی نے (ایک صورت ہے) نماز شروع کر دی اب نماز کے دوران اقامت ہو گئی اب کیا کرے؟ (43:17)
• بعض اوقات یہ دیکھا جاتا ہے کہ مسجد حرام میں بعض مرد عورتوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ایسی نماز کا کیا حکم ہے شرعاً؟ (44:28)
• کیا چھوٹے بچے کو صف سے اپنی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ پر کوئی بڑا انسان کھڑا ہو سکتا ہے نماز پڑھنے کے لیے ؟ (46:20)
• مسجد کے ستونوں کے بیچ میں نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے بعض مساجد میں آپ دیکھتے ہیں بہت زیادہ ستون ہوتے ہیں اب نماز کے وقت صف جو ہے ٹوٹ جاتی ہے ستون کی وجہ سے ؟ (49:46)
• عورتوں کی صفوں کے متعلق کہ عورتوں کی صفیں سب سے اچھی کون سی ہیں آگے والی ہے یا سب سے پیچھے والے ہے اور اگر کوئی ستر نہ ہو تو عورتیں نماز کیسے پڑھیں ؟ (50:36)
• ایک شخص مسجد میں داخل ہوا عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے پھر اسے یاد آیا کہ اس نے مغرب کی نماز نہیں پڑھی ہے کیا کرے گا؟(03:11)
• اگر ایک یا ایک سے زیادہ فرض چھوٹ جائیں نیند کی وجہ سے یا بھول کی وجہ سے تو میں ان نمازوں کو کس طریقے سے قضاء کروں ؟ کیا پہلے یہی نماز پڑھوں جو قضاء ہو گئی ہے پھر حاضر وقت کی نماز پڑھوں یا اُلٹ پہلے حاضر وقت کی نماز اور اس کے بعد پھر قضاء نماز پڑھوں؟(07:43)
• بہت سارے لوگ نماز پڑھتے ہیں خفیف کپڑوں کے ساتھ (خفیف کپڑے ٹرانسپیرنٹ (Transparent) جیسے جو ہوتے ہیں) جن کے پیچھے سے جسم نظر آتا ہے اور وہ لوگ چھوٹے سے شارٹس(Shorts) پہنتے ہیں جن سے آدھی ران جو ہے کور(Cover) ہوتی ہے اور آدھی نظر آتی ہے ان لوگوں کی نماز کا کیا حکم ہے ؟(16:13)
• بعض عورتیں لباس پہنتی ہیں گلے تھوڑے سے بڑے ہوتے ہیں اور سائیڈ پر پنڈلی کے ساتھ کوئی کٹ ہوتا ہے بعض عورتیں نماز پڑھ لیتی ہیں صرف سَر کو ڈھانپ کر اور باقی جسم کے حصے کو نہیں ڈھانپتیں صحیح طریقے سے یعنی جیسا کہ گلا ہے وہ بڑا ہے چھاتی یا گردن کچھ نظر آتی ہے یا ٹانگ کا کوئی حصہ نظر آتا ہے او ر وہ یہ کہتی ہیں کہ ہم عورتوں میں ہیں تو عورتوں میں جائز ہے؟(22:35)
• کیا عورت نقاب کے ساتھ اور گلوز کے ساتھ ((Gloves)دستانوں کے ساتھ) نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟(24:52)
• اگر کوئی شخص گندے کپڑوں میں نماز پڑھ لے ( کپڑوں پر نجاست لگی ہے پیشاب لگا ہے یا کوئی پاخانہ لگا ہے اور اس نے نماز پڑھ لی ہے) اور اسے پتہ بھی نہیں ہے نماز کے بعد جا کر پتہ چلا کیا حکم ہے؟(28:08)
• اسبال کے متعلق کہ جس نے ٹخنے کے نیچے کپڑا کر کے نماز پڑھی یا ٹخنے کے نیچے کپڑا کرنا (شلوار ہو یا پینٹ ہو یا ثوب ہوکوئی بھی کپڑا ٹخنے کے نیچے ہو) اس کا کیا حکم ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر تکبر کی وجہ سے اس نے پہنا ہے تو جائز نہیں ہے اگر تکبر کی وجہ نہیں تو جائز ہے ؟ (40:22)
• بعض لوگ دلیل پیش کرتے ہیں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میری ثوب تھوڑی سی لمبی تھی تو میں باندھا کرتا تھا بعض اوقات سرک جاتی تھی تو میں اسے دوبارہ اٹھا لیتا تھابعض لوگ کہتے ہیں یہ جائز ہے اگر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ (41:54)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ اگر نماز کے دوران یہ پتہ چل جائے کہ کپڑوں پر کوئی نجاست لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟ (46:43)
• ایک شخص ہے نہ اس کے پاس پانی ہے طہارت کے لیے نہ اس کے پاس مٹی ہے تیمم کے لیے نماز کا وقت ہو گیا ہے کیا کرے گا ؟ (47:42)
• ایک بندے کو جیل میں بند کیا ہوا ہے اسے پانی بھی نہیں دیتے کچھ بھی نہیں دیتے اسے اب اس نے نماز پڑھنی ہے کیا کرے گا وہ ؟ (48:24)
• ایک مسافر ہے اس کو احتلام ہو گیا ہے حدث اکبر ہو گیا ہے اب اس نے نماز پڑھنی ہے اس کے پاس پانی نہیں ہے وہ کیا کرے گا ؟ (49:35)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ اگر پانی ہے تھوڑا ہے (میرے پاس یہ بوتل ہے300ml ہے)میں اس سے وضو کر سکتا ہوں؟ (50:26)
• نماز پڑھتے وقت ناک سے خون جاری ہو گیا (Epistaxis ہو گیا ) کیا حکم ہے ؟اور یہ خون کپڑوں پر بھی لگا ہے ؟ (51:31)
• بھائی کا یہ سوال ہے میں نے یہ کہا کہ اگر عورت حرم میں ہو یا احرام کی حالت میں ہو کیونکہ اس نے دستانے نہیں پہننے تو نماز کے وقت اپنے ہاتھ عبائے کے اندر کرلے تو کیا عورت ہاتھ باہر رکھے گی عبائے کے یا اندر رکھے گی اپنے ستَر کے ؟ (54:10)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ ہم بعض اوقات حرم میں نماز پڑھتے ہیں تو اچانک نماز کے دوران محسوس ہوتا ہے کہ کسی پرندے کی بیٹ آ کر گری ہے تو ہم کیا کریں اس وقت؟ (55:03)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ ایک مرتبہ میں وتر کی نماز پڑھ رہا تھا ایک رکعت کی نیت سے لیکن ہوا یہ کہ میں دوسری رکعت کے لیے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ، جب کھڑا ہو گیا مجھے یاد آیا کہ میں نے ایک رکعت پڑھنی تھی اب میں کیا کروں ؟ کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں جو ایک رکعت کی نماز پڑھ رہا تھا تو تین کی نیت میں کر لوں یا جائز نہیں ہے ؟یا اگر اگر میں بیٹھ جاؤں اور ایک رکعت پوری کروں ؟ (56:08)
• کیا کندھا کھلا رکھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ (58:15)
• بھائی کا یہ سوال ہے کہ بعض اوقات امام جو ہیں بڑی تیزی سے نماز پڑھتے ہیں اور مقتدی بیچارے پریشان ہوتے ہیں ؟ (1:00:24)
• کیا جائز ہے کسی انسان کے لیے کہ نماز میں وقت میں تاخیر کرےتاکہ وہ نماز کی شرطوں میں سے ایک شرط کو حاصل کر لے ؟ مثال کے طور پر کہ اسے پانی کی حاجت ہے پانی نہیں ہے پانی کی تلاش کرتا گیا کرتا گیا نماز کا وقت چلا گیا کیا اس کے لیے جائز ہے؟ (07:01)
• ایک شخص ہے رات کو جاگتا ہے ( کافی دیر تک جاگتا ہے) اور جاگنے کی وجہ سے صبح کی نماز چلی جاتی ہے اس کی اور جب صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ اٹھنے کے بعد تو نماز کا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ”فهل تقبل منه؟“کیا اس کی نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہے ؟ اور دوسری نمازوں کا کیا حکم ہے جو وہ شخص فجر کی نماز کے علاوہ اپنے وقت میں ادا کرتا ہے ؟ (9:43)
• دو سوال ہیں: (۱) کیا حکم ہے اس بیوی کا اس شوہر کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا جس کا شوہر نماز نہیں پڑھتا بے نمازی ہے اور اس عورت کی اس مرد میں سے اولاد بھی ہے ؟ (۲) دوسرا سوال ،بے نمازی سے شادی کرنے کا کیا حکم ہے ؟ (17:32)
• جس شخص نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اور پھر اس نے توبہ کی کیا وہ توبہ کرنے کے بعد وہ نمازیں جو اس نے جان بوجھ کر چھوڑی ہیں ان کی قضاء کر سکتا ہے یا نہیں ؟ (22:47)
• فیملی کے اوپر کیا فرض ہے اُن بچوں کے متعلق جو بے نمازی ہیں ؟ ( یعنی ماں باپ اور فیملی کیا کرے؟)۔ (26:21)
• مسافر کے لیے آذان کا کیا حکم ہے ؟ (28:16)
• آذان اور اقامت منفرد کے لیے ؟ (29:36)
• اگر کوئی شخص ظہر اور عصر کو جمع کرے تو کیا ایسے شخص کی اقامت الگ ہو گی ؟ اور کیا نفل نماز کے لیے اقامت ہوتی ہے کہ نہیں؟ (34:58)
• یہ جو کلمہ ہے ”الصلاة خير من النوم” کیا پہلی آذان میں ہے فجر کی یا دوسری آذان میں؟ (37:40)
• کیا ٹیپ ریکارڈر لگا کر آذان دینا جائز ہے؟ (41:17)
• اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو جائے اور مؤذن آذان دے رہا ہو تو اس کے لیے بہتر کیا ہے(یعنی کیا کرے وہ دو رکعت پڑھنا شروع کر دے یا مؤذان کی آذان سنے)؟ (42:53)
• جب ہم جواب دیتے ہیں ” اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدَاً الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامَاً مَحْمُودًا الذي وعَدْتَهُ (إنَّكَ لا تخلفُ الميعادَ) “ ، یہ جو ”إنَّكَ لا تخلفُ الميعادَ“ ہے کیا یہ صحیح ہے؟ (47:40)
• کیا اقامت میں متابعت کی جاتی ہے جیسا کہ آذان میں کی جاتی ہے؟ (49:25)
• ہم بعض لوگوں کو سنتے ہیں نماز کی اقامت کے بعد ”قولهم: أقامها الله وأدامها“ ( اللہ تعالیٰ اس کو قائم اور دائم رکھے (نماز کو یعنی)) اس کا کیا حکم ہے ؟ (50:24)
• اگر کوئی شخص وقت سے پہلے نماز پڑھ لے جہلاً (اسے پتہ نہیں تھا علم نہیں تھا بے علمی میں جہالت میں)؟ (51:40)
اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم (شیخ الإسلام الإمام محمد بن عبد الوهاب رحمہ اللہ) کی نصیحت
اردو ترجمہ اور تشریح:
ڈاکٹر مرتضی بن بخش (حفظہ اللہ )
میں نے ایک طلاق دی 6 اکتوبر 2019 کو لیکن طلاق کا لفظ نہیں کہا، صرف یہ کہا کہ چلی جاؤ ۔ پھر 4 نومبر 2019 کو دو طلاق ایک ساتھ شدید غصہ میں دی اور کہا میں تمھیں طلاق دیتا ہوں پر میری نیت نہیں تھی طلاق دینے کی۔ اس کے بعد طلاق کے پیپر دیے طلاق کی مجبوری میں لیکن نیت نہیں تھی طلاق کی۔
کیا طلاق ہو چکی ہے یا نہیں اور اگر ہو گئی ہے تو رجوع کیسے کریں؟
آئیے اس بابرکت مہینے میں روزانہ تراویح کی نماز میں ہر آیت یا ہر سورة یا ہر صفحے یا ہر پارے سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں یا پڑھنے کے بعد اپنے آپ سے کم سے کم یہ سوال تو کریں کہ آج میں نے قرآن مجید کی تلاوت سے کیا سیکھا ہے
فتاوی ارکان الاسلام – فتاوی الصیام : الشیخ العلامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
Fatawa Arkan ul Islam – Fatawa As-Siyaam : Shaykh Mohammed bin Saleh Al Uthaimeen رحمه الله