25080803 – Agar koi kaafir jaan bachane ke liye kalma parhne ke baad phir Musalmano ko nuqsan pohchata hai to kya usey qatl karna jayez hoga?

25080803 - اگر کوئی کافر جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھنے کے بعد پھر مسلمانوں کو نقصان پہچاتا ہے تو کیا اسے قتل کرنا جائز ہو گا؟


غزوہ میں ایک صحابی اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک کافر کو قتل کیا،جبکہ اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے اس فعل کو ناپسند فرمایا ۔ کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد اس شخص کو قتل نہیں کرنا چاہیے تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کافر شخص کلمہ پڑھ لیتا ہے ایسی صورتحال میں، ایک مسلمان حسن ظن رکھتے ہوئے اس کو چھوڑ دیتا ہے، لیکن وہی شخص اس کلمہ کی آڑ میں دوبارہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے،اور اپنے عمل اور قول سے یہ بات ثابت کر دیتا ہے کہ اس نے کلمہ صرف جان بچانے کے لیے پڑھا تھا۔ اب جب دوبارہ سامنہ ہو، تو کیا اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے؟
اور اگر وہ دوبارہ کلمہ پڑھ لے،اور ہو سکتا ہے اس بار وہ دل سے اللہ کے لیے کلمہ پڑھے، تو کیا اس بار دوبارہ حسن ظن رکھتے ہوئے اس کے ایمان لانے کا یقین کیا جائے گا،یا قتل کر دیا جائے گا؟