[put_wpgm id=2]
  • No categories
  • 02: Kitaab Ka Muqadimaah

    02: کتاب کا مقدمہ



    تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مذہب اسلام کی ہدایت عطا فرمائی، اور اس دین کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، اور ہمیں خیر امت میں پیدا کیا، ہم اس سے ان کاموں کی توفیق چاہتے ہیں جو اسے محبوب اور پسند ہیں اور ان کاموں سے اسکی حفاظت طلب کرتے ہیں جو اسے ناپسند اور ناراض کرنے والے ہیں۔

    Point No: 1

    پوائنٹ نمبر 1


    جان لو !کہ اسلام ہی سنت ہے اور سنت ہی اسلام ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر قائم نہیں ہوسکتے۔

    Point No: 2

    پوائنٹ نمبر 2


    یہ بھی سنت میں سے ہے کہ جماعت کو لازم پکڑا جائے، جس نے جماعت سے منہ موڑا اور اسے چھوڑ دیا اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا اور وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

    Point No: 3

    پوائنٹ نمبر 3


    اور وہ بنیاد جس پر جماعت قائم ہوتی ہے وہ رسول اللہ (ﷺ)کے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین)ہیں، وہی اہل سنت والجماعت ہیں، جس نے ان سے (دین)نہیں لیا وہ گمراہ ہوا اور بدعت ایجاد کیا، اور ہر بدعت گمراہی ہے اورہر گمراہی اور گمراہ جہنم میں ہے۔

    Point No: 4

    پوائنٹ نمبر 4



    حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)کا ارشاد ہے: کسی گمراہی کو ہدایت سمجھ کر عمل کرنے والے کے لیے کوئی عذر نہیں ہے اور نہ ہی کسی ہدایت کو گمراہی سمجھ کر چھوڑنے والے کے لیے کوئی عذر ہے، اس لیے کہ تمام امور واضح کر دئے گئے ہیں، حجت ثابت ہو چکی ہے اور عذر ختم ہو گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ سنت اور جماعت نے دین کے تمام معاملات کو مضبوط کر دیا ہے اور ہر چیز لوگوں کے لیے واضح کر دی ہے ، اب لوگوں پر صرف اتباع ضروری ہے۔

    Point No: 5 – Part 1

    پوائنٹ نمبر 5 - حصہ اول



    جان لو!(اللہ تعالی تم پر رحم کرے)کہ دین اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے آیا ہے، یہ لوگوں کی عقل اور ان کی آراء پر نہیں قائم کیا گیا ہے، اس کا علم اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کے پاس ہے، تم ذرا بھی اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو، تم دین سے دور جاگرو گے اور اسلام سے نکل جاؤ گے، پھر تمہارے لئے کوئی حجت نہیں ہوگی، کیونکہ رسول اللہ (ﷺ)نے اپنی امت کے لئے سنت کو بیان کردیا اور اپنے صحابہ کرام کے لئے اسے واضح کر دیا ہے ، اور وہی جماعت اور اسواد اعظم ہیں، اور سواد اعظم حق اور اہل حق ہیں، جس نے دین کے کسی معاملے میں اصحاب رسول (ﷺ)کی مخالفت کی اس نے کفر اختیار کیا۔

    Point No: 5 – Part 2

    پوائنٹ نمبر 5 - حصہ دوم



    جان لو!(اللہ تعالی تم پر رحم کرے)کہ دین اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے آیا ہے، یہ لوگوں کی عقل اور ان کی آراء پر نہیں قائم کیا گیا ہے، اس کا علم اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کے پاس ہے، تم ذرا بھی اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو، تم دین سے دور جاگرو گے اور اسلام سے نکل جاؤ گے، پھر تمہارے لئے کوئی حجت نہیں ہوگی، کیونکہ رسول اللہ (ﷺ)نے اپنی امت کے لئے سنت کو بیان کردیا اور اپنے صحابہ کرام کے لئے اسے واضح کر دیا ہے ، اور وہی جماعت اور اسواد اعظم ہیں، اور سواد اعظم حق اور اہل حق ہیں، جس نے دین کے کسی معاملے میں اصحاب رسول (ﷺ)کی مخالفت کی اس نے کفر اختیار کیا۔

    Sharh us Sunnah Point No: 6

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 6

    jaan lok_h logon ne is waqt tak koi bidat ijaad nahi ki jab tak ke unhon ne is jaisi kisi sunnat ko nah chore diya, is liye muharmat se bachcho, kyunkay deen mein har naya kaam bidat hai aur har bidat gumraahi hai, aur gumraahi aur gumraah dozakh mein hain .

    جان لوکہ لوگوں نے اس وقت تک کوئی بدعت ایجاد نہیں کی جب تک کہ انہوں نے اس جیسی کسی سنت کو نہ چھوڑ دیا، اس لیے محرمات سے بچو، کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور گمراہی اور گمراہ دوزخ میں ہیں۔

    Sharh us Sunnah Point No: 7

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 7

    ( deen mein ) naye kamon se bachcho, agar chay woh mamooli hi kyun nah hon, kyunkay choti ﺑﺪﻋﺎﺕ barhatay barhatay barri ban jati hain, isi terhan is ummat mein jo bhi bidat ijaad hui woh shuru mein choti aur haq ke mushaba thi, jis se is mein daakhil honay walay dhoka kha gaye aur phir is se nikal nah sakay, phir choti bidat barri hogayi aur aik deen ban gayi, jis ki pairwi ki jane lagi, jis ki wajah se ( is mein daakhil honay walon ne ) Siraat mustaqeem ki mukhalfat ki aur islam se nikal gaye

    (دین میں) نئے کاموں سے بچو، اگر چہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ چھوٹی بدعات بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہیں، اسی طرح اس امت میں جو بھی بدعت ایجاد ہوئی وہ شروع میں چھوٹی اور حق کے مشابہ تھی، جس سے اس میں داخل ہونے والے دھوکہ کھا گئے اور پھر اس سے نکل نہ سکے، پھر چھوٹی بدعت بڑی ہوگئی اور ایک دین بن گئی، جس کی پیروی کی جانے لگی، جس کی وجہ سے (اس میں داخل ہونےوالوں نے) صراط مستقیم کی مخالفت کی اور اسلام سے نکل گئے

    Sharh us Sunnah Point No: 8

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 8

    yaad rekho! ( Allah tum par reham kere ) tum apne is zamane mein khusoosan, kisi ki baat suno to ( is par amal karne mein ) hargiz jaldi nah karo, is ki kisi cheez mein daakhil nah ho jao, yahan taq ke tum ( ulama se ) pooch lau aur ghhor kar lau ke kya is ko rasool Allah (ﷺ) ke sahaba ya ulama mein se kisi naay kaha ( یاکیا ) tha? agar tum naay is mein un se koi asr paaya to usay mazbooti se thaam lau, aur is se agay nah brhho aur is par kisi cheez ko pasand nah karo, kahin aisa nah ho ke tum dozakh mein ja guru .

    یاد رکھو!(اللہ تم پر رحم کرے)تم اپنے اس زمانے میں خصوصا، کسی کی بات سنو تو(اس پر عمل کرنےمیں)ہرگز جلدی نہ کرو، اس کی کسی چیز میں داخل نہ ہو جاؤ، یہاں تک کہ تم (علماء سے)پوچھ لو اور غور کر لو کہ کیا اس کو رسول اللہ(ﷺ)کے صحابہ یا علماء میں سے کسی نے کہا(یاکیا)تھا؟اگر تم نےاس میں ان سے کوئی اثر پایا تو اسے مظبوطی سے تھام لو، اور اس سے آگے نہ بڑھو اور اس پر کسی چیز کو پسند نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دوزخ میں جا گرو۔

    Sharh us Sunnah Point No: 9

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 9

    yaad rakho! ( seedhi ) raah se nikal jana do terhan hota hai. Aik shakhs raah ( haq ) se phisal gaya aur woh kher ka iradah rakhta tha, to is ki laghzish ki pairwi nahi ki jaye gi, kyunkay woh halaak honay wala hai. dosray ne haq se dushmani ki, aur is raah ki mukhalfat ki jis par is se pehlay mut-taqi log gamzan thay, aisa shakhs gumraah, gumraah gir, aur is ummat mein sarkash shetan hai, is shakhs ka farz bantaa hai jo uski haqeeqat se waaqif hai ke woh logon ko is se dry aur logon ko is کاقصہ ( haqeeqat ) bayan kere taa ke koi uski bidat mein girftar ho kar halaak nah ho .

    یاد رکھو!(سیدھی) راہ سے نکل جانا دو طرح ہوتا ہے۔ ایک شخص راہ(حق)سے پھسل گیا اور وہ خیر کا ارادہ رکھتا تھا ، تو اس کی لغزش کی پیروی نہیں کی جائے گی، کیونکہ وہ ہلاک ہونے والا ہے۔ دوسرے نے حق سے دشمنی کی ، اور اس راہ کی مخالفت کی جس پر اس سے پہلے متقی لوگ گامزن تھے، ایسا شخص گمراہ، گمراہ گر، اور اس امت میں سرکش شیطان ہے، اس شخص کا فرض بنتا ہے جو اسکی حقیقت سے واقف ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے ڈرائے اور لوگوں کواس کاقصہ (حقیقت)بیان کرے تا کہ کوئی اسکی بدعت میں گرفتار ہو کر ہلاک نہ ہو۔

    Sharh us Sunnah Point No: 10

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 10



    جان لو!(اللہ تم پر رحم کرے) کسی بندے کا اسلام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اتباع کرنے والا، تصدیق کرنے اور قبول کرنے والا نہ ہو، جس نے یہ دعوی کیا کہ اسلام میں کچھ چیزیں باقی رہ گئی ہیں جسے جناب محمد (ﷺ)کے صحابہ نے ہمیں نہیں بتلایا تو اس نے انہیں جھوٹا قرار دیا اور اس کی یہ بات ان پر طعنہ زنی اور پھوٹ ڈالنے کے لیے کافی ہے ، اور ایسا شخص بدعتی ، گمراہ، گمراہ گر اور اسلام میں ایسی نئی چیز پیدا کرنے والا ہے جواس میں نہیں تھی

    Sharh us Sunnah Point No: 11

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 11



    جان لو! (اللہ تعالی تم پر رحم فرمائے) کہ سنت میں قیاس نہیں ہے۔ نہ اس کے لیے تشبیہات اور مثالیں دی جائیں گی اور نہ اس میں خواہشات نفس کی پیروی کی جائے گی، بس احادیث رسول(صلی اللہ عیلہ وسلم) کی بلا چوں وچرا، اور بلا تشریح، تصدیق کی جائے گی اور کیوں؟ کیسے؟ نہیں کہا جائے گا۔

    Sharh us Sunnah Point No: 12

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 12



    علم کلام، مناظرہ و مباحثہ، ہٹ دھرمی اور جھگڑا بدعت ہے، دل میں شک پیدا کرتا ہے اگرچہ کہ یہ کرنے والا حق اور صواب کو پائے

    Sharh us Sunnah Point No: 13

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 13



    جان لو! اللہ تعالی تم پر رحم فرمائے۔ کہ بے شک اللہ رب العالمین کی ذات کے بارے میں (بغیر دلیل کے ) کلام کرنا محدث ( یعنی نئی ایجاد کردہ چیز ) ہے اور وہ بدعت اور گمراہی ہے، اللہ سبحانہ وتعالی کے بارے میں وہی کہا جائے گا جو اس نے قرآن مجید میں اپنا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے اور اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام کو بیان فرمایا ہے، کہ وہ سبحانہ و تعالی ایک ہے ( اس کی جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ خوب سننے اور دیکھنے والا ہے ) الشورى : 11

    Sharh us Sunnah Point No: 15

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 15



    اللہ تعالی کی صفات میں کیسے اور کیوں وہی کہے گا جو اس کی ذات میں شک کرتا ہے۔

    Sharh us Sunnah Point No: 16

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 16



    قرآن اللہ تعالی کا اتارا ہوا کلام اور اس کا نور ہے، وہ مخلوق نہیں ہے، اس لیے کہ قرآن اللہ کی ذات سے ہے اور جو اللہ سے ہے وہ مخلوق نہیں ہے، یہی بات امام مالک بن انس اور امام احمد بن حنبل(رحمہما اللہ) اور ان سے پہلے اور بعد کے فقہاء نے کہی، اور اس میں بحث کرنا کفر ہے۔

    Sharh us Sunnah Point No: 16 – Part 2

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 16- حصہ دوم



    قرآن اللہ تعالی کا اتارا ہوا کلام اور اس کا نور ہے، وہ مخلوق نہیں ہے، اس لیے کہ قرآن اللہ کی ذات سے ہے اور جو اللہ سے ہے وہ مخلوق نہیں ہے، یہی بات امام مالک بن انس اور امام احمد بن حنبل(رحمہما اللہ) اور ان سے پہلے اور بعد کے فقہاء نے کہی، اور اس میں بحث کرنا کفر ہے۔

    Sharh us Sunnah Point No: 17 – Part 1

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 17- حصہ اول



    قیامت کے دن (اللہ تعالی کی)رویت پر ایمان رکهنا ضروری ہے۔(بندے) اللہ تعالی کو اپنی آنکهوں سے دیکهیں گے اور وہ ان کا حساب لے گا(اور اللہ اور اسکے بندوں کے درمیان) نہ کوئی پردہ ہو گا اور نہ ہی کوئی ترجمان

    Sharh us Sunnah Point No: 17 – Part 2

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 17- حصہ دوم



    قیامت کے دن (اللہ تعالی کی)رویت پر ایمان رکهنا ضروری ہے۔(بندے) اللہ تعالی کو اپنی آنکهوں سے دیکهیں گے اور وہ ان کا حساب لے گا(اور اللہ اور اسکے بندوں کے درمیان) نہ کوئی پردہ ہو گا اور نہ ہی کوئی ترجمان

    Sharh us Sunnah Point No: 18

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 18



    قیامت کے دن میزان پر ایمان رکهنا ضروری ہے، جس میں نیکی اور بدی تولی جائے گی، اس کے دوپلڑے اور ایک سوئی ہوگی۔

    Sharh us Sunnah Point No: 20

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 20



    رسول اللہ(ﷺ)کےحوض(کوثر)پر ایمان رکهنا ضروری ہے، اور(روز محشر) ہر نبی کا (الگ الگ) حوض ہو گا سوائے حضرت صالح(علیہ السلام) کے، ان کا حوض انکی اونٹنی کا تهن ہوگا

    Sharh us Sunnah Point No: 21

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 21



    رسول اللہ(ﷺ) کی شفاعت پر ایمان رکھنا ضروری ہے گنہگاروں کے لیے قیامت کے دن، پل صراط پر ، اور اللہ تعالی کے پیارے پیغمبر (ﷺ) انکو جہنم کے پیٹ سے نکالیں گے، اور کوئی نبی نہیں الا یہ کہ انکی شفاعت ہے ( یعنی سب انبیاء کرام علیہم السلام شفاعت کریں گے ) اور اسی طرح صدیقین، شہداء اور صالحین بهی شفاعت کریں گے، اور آخر میں اللہ تعالی اپنی مہربانی سے جسے چاہے جنت میں داخل کریں گے، اور دوزخ سے نکلیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن گئے ہونگے۔

    Sharh us Sunnah Point No: 22

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 22



    جہنم کے اوپر پل صراط پر ایمان رکهنا واجب ہے، پل صراط جسے اللہ چاہے پکڑ لے گا، جسے چاہے اس سے گزر جائے گا، جس کو چاہے جہنم میں گرا دے گا، اور مومنوں کو انکے ایمان کے مطابق نور حاصل ہو گا.

    Sharh us Sunnah Point No: 24 & 25

    شرح السنة پوائنٹ نمبر 24 اور 25



    جنت اور جہنم کے برحق اور انکے مخلوق ہونے پر ایمان رکهنا ضروری ہے، جنت ساتویں آسمان میں ہے اور اسکی چهت عرش ہے، اور دوزخ ساتویں زمین کے نیچے ہے، اور وہ دونوں پیدا شدہ ہیں، جنتیوں اور دوزخیوں کی تعداد اور ان میں کون داخل ہونگے اللہ ہی جانتا ہے، یہ دونوں کبهی فنا نہیں ہونگیں، بلکہ اللہ کی بقا کے ساته ہمیشہ ہمیشہ باقی رہیں گی. آدم(علیہ السلام) پیدا شدہ باقی جنت میں تهے، اس سے اللہ تعالی کی نافرمانی کے بعد نکالے گئے.